Pakistan Ki Kharja Policy پاکستان کی خارجہ پالیسی

Pakistan Foreign Policy

پاکستان کی خارجہ پالیسی ملک کے تین بڑے عہدہ داروں ، صدر،وزیر اعظم اور چیف آف آرمی سٹاف کی ہم آہنگی اور تینوں کی باہمی رضامندی سے ترتیب پاتی ہے۔ ابتدائی ایام سے ہی پاکستان کی غیورانقلابی قوم نے دنیا بھر میں آزادی کی تحریکوں کی بھر پور حمایت اور اعانت میں بھی پیچھے نہیں ہٹی۔ مشرق استعمار کے خلاف جہاد افغانستان ہو یا مغربی استعمار کے ہاتھوں کچلے ہوئے لبنانی مسلمان ، صیہونیوں کے ظلم تلے دبے ہوئے فلسطینی ہوں یا جنوبی افریقہ کے سیاہ فام ، کشمیری مسلمان ہوں یا فلپائن کے مظلوم مسلمان،اسلاجمہور یہ پاکستان نے نہ صرف ان کے حق میں آواز اٹھائی بلکہ بھر پور حمایت کے علاوہ مالی اور مادی امداد بھی فراہم کی ۔

نہر سویز کے معاملے میں پاکستان کی حکومت سے زیادہ یہاں کے عوام نے مصرکے حق میں جنگ لڑنے کیلئے خود کوپیش کیا۔ نیوگئی میں ہونے والے فسادات میں پاکستان نے فوجی دستے بھیجے۔ ایتھوپیامیں خانہ جنگی اور قحط کے حالات میں پاکستان کے فوجی اقوام متحدہ کی فوجوں کے شانہ بشانہ امن بحال کرنے کیلئے شامل ہوئے۔ عراق ، کویت جنگ میں ، عراق ایران جنگ میں پاکستان کے فوجی دستے جنگ بند کرانے کیلئے اقوام متحدہ کی فوجوں کے ساتھ خدمات پیش کرتے رہے۔ وہ کتنارقت آمیز وقت ہوتا ہے۔ جب پاکستان کے اعلیٰ فوجی حکام پاکستان کے فوجی دوستوں کو کسی ملک میں روانہ کرنے سے پہلے رخصت کرتے ہیں۔ اور الوداعی تقریب میں انسانیت کی خدمت کیلئے بے لوث محبت سے خدا حافظ کہتے ہیں ۔

دنیا میں جہاں نفسانفسی کا عالم کا عالم ہے پاکستان کی خارجہ پالیسی کتنی بلند ہے کہ انسانیت کے ناطے اور رسول کریم مصطفی ﷺ کی ہدایت کی روشنی میں ملک کے فوجی جوان دوسروں کی مدد کیلئے اپنی جانوں کا نزرانہ پیش کرتے ہیں۔ پاکستان نے افغان بھائیوں کو ملک میں پناہ دی اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کیلئے کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ تک پہنچانے میں اور دنیا بھر کے دانشوروں کی توجہ مبذول کرانے میں بھر پور کردار ادا کر رہا ہے۔ اس اخلاقی مدد کے نتیجہ میں بھارت نے ہم پر تین جنگیں ٹھونس دیں اور ہم آدھا ملک بھی گنوا بیٹھے۔

بین الاقوامی رابطہ:-

سیاسی لحاظ سے پاکستان دنیاکی 52 بین الاقوامی تنظیموں کا ممبر ہے۔ جن میں اقوام متحدہ، غیروابسطہ تحریک Nonaligned Movement (NAM) آرگنائزیشن آف اسلامی کانفرنس OIC اور کامن ویلتھ بڑی تنظیمیں ہیں علاقائی تنظیم سارک(SAARC) کابھی ممبر ہے۔

پاک بھارت پالیسی:-

مذہبی اختلافات کی بنا پر ہندو مسلمانوں پر ہر لحاظ سے اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتے تھے جس بنا پر مسلمانوں کیلئے علیحدہ مملکت کا قیام ضروری تھا۔ 14 اگست 1947ء کو ہند و تقسیم ہوا اور پاکستان علیحدہ مسلم ملک کے طور پر دنیاکے نقشہ پر ابھرا ۔ پاکستان بننے کے بعد جب اس خطے پر برطانوی راج ختم ہو گیاتو ہندوستان کی ریاستوں کو یہ حق دیا گیاکہ وہ اپنی مرضی سے پاکستان یا بھارت سے الحاق کرلیں اس دور میں کشمیر پر ہندو راجہ حکمران تھا لیکن اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ کشمیر ی مسلمان ہندوستان سے الحاق نہیں کرنا چاہتے تھے۔ مگر ہندوراجہ نے کشمیر سٹیٹ ہندوستان کے حوالے کر دی۔ کشمیری مسلمانوں نے اس فیصلہ کے خلاف بغاوت کر دی۔

ہندوستان کی فوجوں نے مداخلت کر کے کشمیر کے مشرقی حصہ پر قبضہ کر لیا اور کشمیر کا دارلحکومت سری نگر بھی اپنے قبضہ میں لے لیا ۔ جسے اب مقبوضہ کشمیر کہا جاتا ہے۔ کشمیری مسلمانوں نے کشمیر کے مغربی حصہ پر قبضہ کر لیاجسے اب آزاد کشمیر کہا جاتا ہے۔ اس کا دارلحکومت مظفر آباد ہے۔ اقوام متحدہ نے کشمیر کے مسئلے کو رائے شماری کے ذریعے حل کرانے کی قرار دار منظو رکی۔ پاکستا ن اس قرارد اد پر رضامند ہوگیامگر ہندوستان نے اسے قبول نہیں کیا اور کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے چھ لاکھ سے زائد بھارتی فوج کشمیر لوگوں پر ظلم کر رہی ہے۔ حراست میں لوگوں کا قتل کر دینا ، اغواء اور بلا جواز گرفتاریاں روز مرہ کا معمول ہیں۔ پاکستا کی طرف سے عدم جارحیت کے معاہدہ کی پیشکش مذاکرات کے عمل کو ساز گار بنانے کی ایک صورت ہے ۔ لیکن بھارتی قیادت نے اس کے متعلق بے اعتنائی اور سر مہری کا مظاہرہ کیاہے۔

پاکستان کی مصالحانہ کوشش کے جواب میں بھارت دھمکیوں پر اتر آیاہے کہ پاکستان کشمیر میں مداخلت جاری رکھنے کیلئے مجاہدوں کو تربیت دینابند کردے ورنہ پاک بھارت میں چوتھی جنگ شروع ہو جائے گی اورموجودہ صورتحال کو مزید پچاس سالوں کیلئے برقرار رکھا جائے ۔لہٰذا بھارت کے بارے میں پاکستان بھی اپنی پالیسی پر نظر ثانی کیلئے مجبور کر رہا ہے۔ اگر بھارت نے کشمیر پر اپنے موجودہ موقف میں کوئی تبدیلی نہ کی اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق اسے حل کرنے سے برابر انکار کرتا رہا تو اسلامی ملکوں کی کثیر تعداد اورسلامتی کو نسل کی مستقل رکنیت پر بھارت کی حمایت کرے گی اور اگر اسلامی ملکوں کی بھارت کی حمایت نہ کی تو بھارت کی کامیابی کا امکان بہت کم ہے۔ اس لئے اگر بھارت سلامتی کو نسل کارکن بن کر بڑے ملکوں کی صف میں ہونا چاہتا ہے۔ تو اسے پاکستان کی آواز کو سننا چاہیے۔

پاکستان افغان پالیسی :-

افغانستان کیلئے پاکستان نے ہر طرح مدد کی ہے۔ 1980 میں روسی قبضہ کے خلاف پاکستان نے افغانستان کی مالی، مادی اور اخلاقی مدد کی ہے۔ افغان مہاجرین کو گلے لگایا اور پاکستان میں پناہ دی۔ فروری 1989ء میں روسی فوجیوں کی واپسی کے باوجود پاکستان ، افغانستان میں پرامن حالات پیدا کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ تین ملین سے زیادہ افغا ن مہاجرین پاکستان میں مقیم ہیں کچھ وآپس چلے گئے پھر بھی بھاری تعداد میں موجود ہیں۔ امریکہ نے افغان مہاجروں کی مدد کیلئے 500 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی ۔ اب افغانستان پر طالبان حکمران ہیں جنہوں نے بھارت اور اس کے اتحادی روس کو کابل سے نکال دیا ہے اور افغانستان کے 22 صوبوں پر حکمران ہیں اور اسلامی حکومت قائم ہے۔ پاکستان افغانستان میں مذہبی گروپوں کے جھگڑوں کے باوجود اس کی مدد کر رہا ہے۔

پاک ایران پالیسی :-

قیام پاکستان سے ایران کے ساتھ ہمارے دو ستانہ تعلقات ہیں۔ مذہبی نقطہ نظرسے بھی ایک دوسرے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ ایران کا سرمایہ کاری مذہب اسلام ہے اور 99 فیصد لوگ مسلمان ہیں ۔ ایران کے علمی مدرسوں اورثقافتی مزاکزنے علمی دنیا کو بہت مشہور دانشور عطا کیئے۔ ابوعلی سینا'فارابی'امام غزالی'خواجہ نصیر الدین طوسی، سعدی شیرازی، حافظ شیرازی اور مولاناروم جیسی شخصیات پیدا کیں ، جنہوں نے اپنے علمی خزانے لٹائے اور دنیا کو علم کی روشنی سے منور کیا۔ تہران میں منعقد اسلا می کانفرنس کی تنظیم (OIC) نے ایک قرار داد کے ذریعے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی بھرپور حمایت کی ہے قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کشمیری عوام کو قراردادوں کے مطابق اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے۔ قرارداد میں کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کی حمایت میں جو کچھ کہاگیا ہے۔

وہ کشمیرپر پاکستانی موقف کے عین مطابق ہے اس لحاظ سے تہران کانفرنس کی جانب سے کشمیر قرارداد جسے 55 رکن ممالک نے متفقہ طور پر منظور کیا ہے اس لیے کشمیر کے معاملے میں حقیقت پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے دنیا اسلام کی اس متفقہ طور پر منظور کیا ہے۔ اس لئے بھارت کو کشمیر کے معاملے میں حقیقت پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے دنیا ئے اسلام کی اس متفقہ اور واضح رائے پر دھیان دینا چاہیے ۔ پاکستان ایران کے درمیان دینی رشتوں کے علاوہ کاروباری معاہدے بھی ہوئے ہیں۔ ہماری خارجہ پالیسی ایران سے بہترین تعلقات پر مبنی ہے۔

پاک مشرق وسطی پالیسی

مشرق وسطی کے ممالک کیساتھ پاکستان کے بہترین تعلقات ہیں۔ سوائے اسرائیل کے۔ اسرائیل کے ساتھ ہمارا براہ راست ٹکراؤ سہی یہ کیا کم ہے کہ اس نے ہمارے قبلہ اول بیت المقدس میں قبضہ کر رکھا ہے۔ جہاں نبی کریم ﷺ نے انبیائے کرام کی شب معراج کے تاریخی موقع پر تاریخی امامت کروائی اور ہماری مذہبی عقیدے کے مطابق مہدی کا ظہور یہیں سے ہوگا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ اسرائیل کے بدلے حل کروالیا جائے وہ حقائق سے نا آشنا نظر آتے ہیں کیونکہ کشمیر کا کچھ علاقہ امریکہ کے زیر اثر رہے گا ۔ کچھ علاقہ بدستور بھارت کے زیر تسلط رہے گا اور کچھ علاقہ پاکستان کو ملے گا۔

اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بارے میں پاکستان میں ایک طبقہ نرم گوشہ رکھتا ہے۔ اسرائیل فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں آباد کر رہا ہے۔ ہمارے ملک میں دہشت گرد جو نقصان پہنچارہے ہیں ۔ بھارت ان کو اسرائیل سے ٹرینڈ کر کے پاکستان بھیج رہا ہے۔ امریکہ قرضے معاف کرنے کی رشوت دے کر اسرائیل کو تسلیم کروانے پرتلاہوا ہے۔ ہرسال کسی نہ کسی حوالے اسرائیل کو تسلیم کروانے کی خبر نمودار کرائی جاتی ہے تاکہ آہستہ آہستہ ہمیں اس کوماننے کیلئے تیار ہو جانا چاہیے خدا تعالیٰ نے ہمیں ایٹمی توانائی دے دی ہے ہمیں ترقی کرنے کیلئے اسرائیل کے کسی سہارے یا دوستی کی ضرورت نہیں ہے ملائیشیاء اور چین نے اسرئیل سے تعلق ہوتے ہوئے ترقی کر لی ہے ہم بھی اسرائیل سے دوستی کے بغیر ان شاء اللہ ترقی کر لیں گے۔