Effects of Environmental Pollution ماحولیاتی آلودگی کے اثرات

Environmental Pollution

آلودگی کے اثرات:-

دنیا کے ہر ہجوم صنعتی شہروں کی ترقی نے ماحول میں آلودگی پیدا کر کے بڑے مسائل پیدا کر دیئے ہیں۔ ان شہروں کی فیکٹریوں اور لوگوں کی آلودگی چھوٹے علاقوں میں کھلے عام پھینک دی جاتی ہے۔جس سے زہریلی گیس بن کر فضا ء میں مل جاتی ہے۔ اس آلودگی نے دریاؤں اور جھیلوں کے پانی کو بھی متاثر کیا ہے اور لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہوچکے ہیں ۔ آٹو گاڑیوں کے مضرد ھوئیں اور زور دار آوازوں سے لوگوں کی وقوت سماعت کم ہو رہی ہے۔ فیکٹریوں سے نکلنے والا زہریلا دھوا ں فضائی بیماریاں پیدا کرتا ہے۔ٹرانسپورٹرز اور صنعت کاروں کا یہ کہنا ہے کہ ہم عوام کو سستی ٹرانسپورٹ مہیا کرتے ہیں اور لوگوں کو ملازمتیں فراہم کرتے ہیں ۔ کھاد سے زمین کمزور ہو جاتی ہے۔ لیکن کیڑے مار نے والی ادویات تیار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ فصلوں کو نقصان دینے والے کیڑوں کو مارنا ضروری ہے تاکہ فصل کی پیدا وارمیں اضافہ ہو۔

زہریلے پانی سے آبی جانور مر جاتے ہیں۔ فضائی آلودگی سے قدرتی حسن خراب ہو جاتا ہے۔ بھارت میں تاج محل کے قریب کیمیکل تیار کرنے والی فیکٹری سے نکلنے والا زہریلا دھواں اس تاریخی خوبصوت عمارت کے حسن کو خراب کر رہا ہے۔ کاروں سے نکلنے والے دھوئیں میں نائٹروجن آکسائیڈ گیس شامل ہوتی ہے ہائی پریشر کمپرسن انجن میں گیس سے اٹھنے والا دھواں زیادہ زہریلا ثابت ہوا ہے۔

فضائی آلودگی:-

3 دسمبر 1984ء کو بھارت کے شہر بھوپال میں کیڑے مارنے والی ادویات کا دھواں اور زہریلی گیس کے خارج ہونے سے 3000 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس قسم کے حادثات امریکہ میں بھی ہوئے۔ امریکی ریاست ورجنیا میں کیمیکل فیکٹری سے زہریلی گیس کے خارج ہونے سے 100 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔فضائی آلودگی سے آنکھوں اور پھیپھڑوں کو سخت نقصان ہوتا ہے۔ بعض حالتوں میں کینسر جیسے موذی مرض کے بھی لوگ شکا ر ہوئے ہیں۔ بعض مختلف بیماریوں کے باعث مرگئے۔ زہریلی فضائی آلودگی سے قیمتی اور نایاب پرندے بھی ہلاک ہو گئے کئی جانور بھی مر گئے۔ ان کی تعدار بھی کم ہو رہی ہے۔ کئی شکاریوں نے بعض خوبصورت پرندے اور نایاب جانور پکڑ کربلیک مارکیٹ میں بھاری معاوضہ کے عوض فروخت کر دیئے۔

آسڑیلیاں کا لمبی دم والا 4 رنگ کا خوبصورت طوطا (MACAW) 20,000 ڈالر میں فروخت ہوتا ہے۔ مڈغا سکر کاکچھوا (PLOWSHARE) بھی 20,000 ڈالر میں ملتا ہے۔ بعد نایاب قسم کے پرندے اور جانور 50,000 ڈالر میں فروخت ہوتے ہیں۔ اتنا بھاری معاوضہ دینے والوں کا کہنا ہے ۔ کہ کم نے اس قسم کے جانور اور پرندوں کی نسل بچانے کیلئے یہ رقم دی ہے۔ اتنی رقم دینے والی امریکی سرمایہ کار اور برونئی کے شاہ ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی اور اوزون کی تہہ سے خلا کے باعث ہماری زمین تک پہنچنے والی الٹراوئلٹ شعاعیں ہماری فضاء کو خطرناک حد تک گرم کر رہی ہیں۔ جس سے دنیا کی حرارت میں ایک ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہو چکا ہے ۔ اگر یہی حالت رہی تو جانوروں اور پودوں کو نقصان پہنچے گا۔ انسانوں میں جلد کا کینسر پھیل جانے کا بھی امکان ہے۔اگر قطب جنوبی پر برف پگھلنا شروع ہو گئی تو یہ خوفناک سیلابوں اور طوفانوں کا سبب بنے گی۔

اسلام آباد میں ماحولیاتی آلودگی پر انٹرنیشنل سیمینار میں اس امر کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایشیاء کے چند ممالک بے حد متاثر ہوں گے ۔ سمندروں میں پانی کی زیادتی سے سری لنکا اور کرچی پانی میں ڈوب جائیں گے اور بنگلہ دیش کا کچھ حصہ کاکسس بازار اور میمن سنگھ کے علاوہ سلہٹ کے ڈوب جانے کا بھی امکان ہے ۔ اس آلودگی میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ ، گند ھک ، کاربن مونو آکسائیڈ اور کلورو فلور کاربن شامل ہیں ۔ ان زہریلی گیسوں کی وجہ سے ہم پھیپھڑوں کی سوزش ، کالی کھانسی ، نمونیا اور انفلوئنزا جیسے خطرناک امراض کا شکار ہوسکتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے 80 کروڑ افراد کو ہوا میں سلفر ڈائی آکسائیڈ کی غیر معمولی مقدار کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔ کہ فضائی آلودگی کے باعث تین ہزار افراد کینسر کا شکار ہو کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

شور کی مضراثرات:-

آواز ہماے کانوں میں میکانی توانائی کی لہروں کی صورت میں داخل ہوتی ہے۔ آواز کی شدت کی پیمائش ڈیسی مل کہلاتی ہے۔ 90 ڈیسی مل تک آوازیں نقصان دہ نہیں ہوتیں ۔ اس سے زیادہ بلند آواز نقصان دہ ہوتی ہے۔ قریب سے زیادہ زور وار آواز سماعت کو ختم کر سکتی ہے۔ جس کا کوئی علاج نہیں ہے اور مریض کو اعلیٰ سماعت کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ شہروں میں موٹر گاڑیوں کی آوازیں ، جہازوں کی آوازیں ، کارخانوں میں مشینوں کی آوازیں ، میوزک کنسرٹ آوازیں 120 ڈیسی مل تک پہنچ جاتی ہیں۔ جو خطرے کا باعث ہیں ۔ یہ آوازیں ہوائی حملے کے دوران بجنے والے سائرن کی آواز کے برابر ہیں آوازیں بلڈ پریشر اور دل کے مریضوں کیلئے خطرناک ہیں ۔ شور کے ماحول میں رہنے سے ذہنی دباؤ تھکن ، سانس کی تکلیف اور نیند میں کمی کی بیماریاں جنم لیتی ہیں ۔

پانی کی آلودگی:-

دو عالمی جنگوں کے تباہ کن اثرات کی بنا پر جرمنی میں لوگ عام نلکوں کا پانی نہیں پیتے ۔ اس پانی سے پاقی ضروریات پوری کرتے ہیں۔پینے کیلئے سارہ منرل واٹر یا لیمن واٹر کا استعمال کرتے ہیں۔ جرمن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ فضایہ آلودگی اور جنگی اثرات ابھی تک جرمنی کی زمین میں شامل ہیں ۔ فضائی آلودہ پانی دیکھنے میں صاف نظر آتا ہے۔ لیکن اس میں جراثیم ہوتے ہیں ۔جو باعث تکلیف ، بیماری اورر موت کا باعث بنتے ہیں۔ جرمنی کی کیمیکل اور دیگر فیکٹریوں سے خارج ہونے والے مضر پانی میں فیکٹری ایریا سے باہر خارج ہونے سے پہلے ایسے کیمیکل ڈال دیے جاتے ہیں جو فضا میں خطرناک آلودگی کا باعث نہ بن سکیں لیکن یہ احتیاط دوسرے کی ملک میں نہیں کی جاتی ۔

فضا آلودہ پانی سے ہیضہ ، پیچس اور دیگر بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔ بعض ممالک میں پانی میں کلورین شامل کی جاتی ہے۔ تاکہ زہریلے جراثیم مر جائے ۔ فضائی آلودہ پانی سے تیراکی اور کشتی رانی کرنے والی بھی متاثر ہوتے ہیں ۔ بعض مقامات پر آ بی جانور ہلاک ہو جاتے ہیں۔ بڑے ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر تیراکی کے پول پر نہانا مضر قرار دیا گیا ہے۔ بعض لوگ جلد کی بیماریوں کا شکا ر ہو گئے ۔ غیر ملکی مرد، عورتیں ، عریاں لباس میں نہاتے ہیں'ان کے جسموں سے مختلف بیماریوں کے جراثیم پانی میں شامل ہو جاتے ہیں ۔ پو ل پر نہانے کے بعد گرم پانی سے معیاری سوپ کے ذریعے غسل کرنے کی ہدایت دی گئی ہیں۔

حفاظتی تدابیر:-

  1. ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیا جائے۔ اخبارات معلوماتی فیچر لکھیں۔ ریڈیو، ٹی وی ماحولیات پر پروگرام ترتیب دیں۔ ٹی وی پر پروگرام کا وقت رات 8 بجے کے ڈرامہ سے پہلے مقرر کیا جائے۔ اس پروگرام میں بڑے سائز کے شاپنگ بیگ میں کوڑا کرکٹ مقررہ جگہ پر پھینکتے ہوئے دکھایا جائے۔
  2. نوجوانوں کو ماحولیاتی تعلیم دی جائے۔
  3. آلودگی پر کنٹرول کرنے کے بارے میں ماہرین کے لکھے ہوئے مضامین پر مبنی لڑیچر فراہم کیا جائے۔
  4. علاقے میں فضائی آلودگی ختم کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شامل کیا جائے۔
  5. کارپوریشن کے عملہ کو ہر علاقہ سے روزانہ کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے پر سختی سے عمل کرایاجائے۔
  6. محلہ کمیٹیاں بنائی جائیں جو اپنے علاقوں میں صفائی کی نگرانی رکھیں۔ یہ کمیٹیاں پاکستان کے دیہاتوں اور شہروں میں ہر علاقے میں تشکیل دی جائیں ۔
  7. محکمہ ماحولیات کے کارکن باری باری ہر علاقے میں جاکر لوگوں کو ماحولیاتی آلودگی کے نقصانات سے آگاہ کریں۔ نئی تجاویز دیں اور لوگوں کو خود اس مسئلے پر عمل کرنے کی ترغیب دیں۔