Importance and Uses of Library لائبریری کی اہمیت و افادیت

Importance of Library Essay

مفہوم اور معنی:-

پڑھنے اور مطالعے کیلئے کتابوں کا مجموعہ جو کسی عمارت یا کمرے میں رکھا ہوا ہو اسے لائبریری کہتے ہیں۔

لاطینی زبان میں لائبر LIBER کتاب کو کہتے ہیں۔ یونانی زبان کا ایک لفظ BIBLIOTHECA کو جرمن ، روسی اور رومن زبانوں میں لائبریری کہا جاتا ہے۔ دونوں زبانوں کے دو مختلف مختلف الفاظ کو مختصر کر کے لائبریری کا نام دیا گیا ہے۔ موجودہ دور کی لائبریریوں میں اخبارات ، رسالے ہر عنوان پر فلمیں ، سلائیڈز ، ویڈیو کیسٹیں ،رنگین ٹی وی ،ٹیپ ریکارڈر، فوٹوکاپی مشین دیگر مواد کے علاوہ ہر موضوع پر کتب بھی دستیاب ہیں۔

ترقیاتی یافتہ مماملک میں انٹرنیٹ کی جدید سہولتیں بھی لائبریریوں میں موجود ہیں ۔ کراچی اور لاہور میں امریکی اور برطانیوں لائبریریوں میں یہ تمام جدید سہولتیں دستیاب ہیں۔ معمولی فیس ادا کرنے پر آپ دنیا بھر کے کسی بھی موضوع پر انٹرنیٹ سے فوری معلومات مل سکتی ہیں۔

ابتداء:-

دنیا بھر میں لائبریری کی ابتداء عراق سے ہوئی جہاں کاغذ کی ایجاد سے پہلے لکڑی کی گیلی تختیوں پر عبارات لکھ کر خشک کر کے محفوظ کر لیا جاتا تھا۔ ایسی تختیاں برآمد ہوتی ہیں ۔ لکھنے کے مواد کو اکٹھا کرنے کا پہلا طریقہ یہی تھا جو پہلی لائبریری کہلاتا ہے۔ کاغذ کا موجد چین ہے۔جس نے دنیا بھر سے پہلے کاغذ پر لکھنے کا آغاز کیا۔ پھر یہ فن مصر میں آیا جہاں کاغذ کے لمبے ٹکڑوں پر حکمت کے راز اور شاہی فرمان لکھنے شروع ہوئے۔ مصر میں لائبریریاں عبادت گاہوں کے اندر مذہبی پیشواؤں کی زیر نگرانی کام کرتی تھیں۔ مصر کے شہر سکندریہ میں پہلا کتب خانہ قائم کیا گیا۔ 1800ء میں امریکی لائبریری آف کانگرس قائم کی گئی پھر 1917ء میں لینن لائبریری ماسکو میں بنائی گئی۔ چین کی بیجنگ لائبریری 'ٹوکیو کی نیشنل لائٹ لائبریری' دنیا کی بڑی لائبریریوں میں شمار ہوتی ہے۔

لائبریری کا موجودہ معیار:-

علم کو پھیلانے کیلئے سائنسی، طبی اور انجینئرنگ کے موضوعات پر کتابیں لکھی گئیں۔ پھر کاروبار اور قانون پر کتب سامنے آئیں۔ ریفرنس کتب، سوانح حیات اور معلومات پر انسائیکلوپیڈیا شائع ہونے شروع ہوئے۔ امریکہ اور یورپ کے ممالک میں سفری لائبریریاں بھی قائم ہیں۔ جو بڑے بڑے شہروں کے علاوہ چھوٹے چھوٹے قصبوں میں جاکر پڑھنے والوں کو سہولتیں فراہم کرتی ہیں۔ ان ممالک میں بسوں کے طویل سفر کرنے والے مسافروں کیلئے بسوں میں مختلف کتب اور رسالے رکھے ہوئے ہیں۔ یورپ میں ڈاکٹروں کی کلینک پر ماہوار رسالے مفت فراہم کئے جاتے ہیں۔ تاکہ انتظار کرنے والے مریض اس دوران رسالوں کا مطالعہ کرسکیں۔ ہر لائبریری کا موجودہ سٹاک ایک کیٹالاگ میں مصنف کا نام اور کتاب کے نام سے ترتیب دیا ہوتا ہے۔ آپکو جس کتاب کی ضرورت ہو آپ آسانی سے کیٹالاگ سے ڈھونڈ سکتے ہیں۔ دیگر صورت میں لائبربرین آپ کی رہنمائی کرے گا۔

معیاری لائبریریوں میں معیاری کتب خانوں کی طرح ہر عنوان کے علیحدہ شیلف بنے ہوتے ہیں۔ جنہیں حروف تہجی کے لحاظ سے ترتیب دیا جاتا ہے۔ بچوں کی کتب علیحدہ رکھی جاتی ہیں۔ بچوں کی جدید ایسی کتب بھی تیار کر لی گئی ہیں۔ جن کے صفحات میں آواز سننے کیلئے چھوٹی سی سیٹی نماز آواز بھری جاتی ہے۔ کتاب میں جس جانور یا پرندے کے متعلق رنگدار تصاویر کے ساتھ معلومات لکھی ہوتی ہیں۔ اسی صفحہ کو دبانے پر اسی متعلق پرندوں یا جانور کی آواز سنائی دے گی۔ یہ کتابیں پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں کہیں کہیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ یورپ میں اس قسم کی بچوں کی کتب عام ملتی ہیں ان ممالک میں جنات یا پریوں کی کہانیاں شائع نہیں ہوتیں۔ ان کی جگہ کمپیوٹر کی جدید سہولتوں اور سائنسی معلومات پر کتب رکھی گئی ہیں۔

طالب علموں کیلئے اگر کسی کتب سے متعلقہ مضمون کی پیچیدگی سمجھ نہ آئے تو بعض مضامین کے متعلق ٹیپ ریکارڈرز کی سہولتیں میسر ہیں۔ چھوٹی سی ٹیپ کیساتھ ہیڈ فون کانوں کو لگا کر اس مضمون کے متعلق طالب علم اکیلا سن سکتا ہے۔ انٹرنیٹ کی سہولتیں بھی فراہم کر دی گئی ہیں۔ جسے کاروباری لوگ دنیا کے کسی ملک سے اپنی ٹریڈ کے بارے میں فوری رابطہ کرسکتے ہیں۔ موجودہ جدید لائبریری آپکو سائنسی، تعلیمی اور معلوماتی موضوع پر فوری طور پر درست اعداد و شمار معلومات فراہم کرنے میں مدد دے گی۔

پاکستان میں لائبریریوں کی سہولتیں:-

کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں جدید لائبریری کی سہولتیں موجود ہیں۔ امریکی اور برطانوی لائبریریاں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ بعض پبلک لائبریریاں معیاری کتب کے علاوہ جدید سہولتیں بھی فراہم کرتی ہیں۔ یونیورسٹی اور کالج لائبریریاں بھی کسی حد تک اس معیار پر پورا اترتی ہیں مگر سالانہ فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے بعض دفعہ ان کیلئے نئی کتابیں خریدنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کاغذ کی مہنگائی نے پاکستان میں لائبریری کے معیار کو بڑھنے نہیں دیا۔ سکول اور کالج کی ٹیسٹ بکس بہت مہنگی ہو گئی ہیں۔ مصروف زندگی نے کتابیں پڑھنے کا ذوق بھی چھین لیا ہے۔

بڑی لائبریریوں میں امتحانات کے موقع پر نوجوان طبقہ ہی دکھائی دیتا ہے۔ عام آدمی کا پڑھنے کا ذوق اب تقریباً ختم ہورہا ہے۔ اخبارات کی قیمتیں بڑھنے سے لوگوں میں اخبار پڑھنے کا رجحان مزید کم ہو گیا ہے۔ روزانہ اخبار خریدنے والا فرد اب ہفتہ میں صرف ایک دن سنڈے ایڈیشن پر ہی اکتفا کرتا ہے۔ چند سال پہلے ہر بڑے چھوٹے شہروں میں صبح شام کرایہ پر کتابیں مل جایا کرتی تھیں، جو محلہ لائبریریاں کہلاتی تھیں۔ اب ان لائبریریوں میں سیکنڈ ہینڈ کتب اور رسالوں نے جگہ لے لی ہے۔ ریلوے سٹیشنوں پر مسافر سفر گزارنے کیلئے ڈائجسٹ خریدتے ہیں وہ بھی صرف سفر کے دوران، علم کی روشنی پھیلانے کیلئے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی کتب خریدنے کیلئے خصوصی گرانٹ ملنی چاہیے۔