Physical and Psychological Benefits of Fasting روزہ رکھنے کے جسمانی اور نفسیاتی فوائد

Ramadan

روزے کے حیرت انگیز فائدے

ہم میں سے بہت سے لوگ روزے کو صرف مذہبی اعتبار سے ہی دیکھتے ہیں صرف چند لوگ ہی روزے سے منسلک صحت کے فوائد سے آشنا ہیں اور جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ روزہ اسلام کا تیسرا اہم رکن ہے جو کہ تمام مسلمانوں پر فرض کیا گیا ہے۔ اس کے اجروثواب کے بارے میں رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"(اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں) روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کابدلہ بھی دوں گا، روزہ دار دو بار خوش ہو تا ہے: ایک روزہ کھولتے وقت اور دوسرا جس دن وہ اللہ سے ملے گا،اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے "سنن نسائی" (2216, 2218, 2219)۔

لیکن میں آپ کو روزے کے ہمارے جسم پر کیا اثرات ہوتے ہیں ان کی وضاحت پیش کرنا چاہوں گا تاکہ آپ بھی اس سے مستفید ہو سکیں۔

Youshinori Ohsumi ایک جاپانی سائنسدان ہیں۔ انہیں 2016ء میں اس نام " Nobel prize in Physiology or Medicine " سے نوازا گیاتھا۔ یہ پرائز کینسر سے بچاو کا علاج تلاش کر لینے پر دیا گیا تھا۔اس بارے میں انہوں نے بتایا کہ جب ہم بھوکے رہتے ہیں تو ہمارے جسم میں غذایت ختم ہونے لگتی ہے اور انسان بھوک محسوس کرنے لگ جاتا ہے۔ اگر اس بھوک کے دوران جسم تک کھانا نہ پہنچے تو جسم اپنے اندر موجود زہریلے خلیوں کو کھانا شروع کر دیتا ہے جو کینسر کا سبب بنتے ہیں۔ اس عمل کو میڈیکل کی زبان میں "آٹوفیگی" (Autophagy) " یعنی خود خوری کا عمل" کہتے ہیں۔ اس عمل سے جسم میں موجود زہریلے خلیے مرنا شروع ہوجاتےہیں ۔جس سے کینسر کا خطرہ کم ہو جاتاہے۔ اس پرجب ان سے سوال کیا گیا کہ سال بھر میں کتنا بھوکہ رہنا چاہیے تو انہوں نے کہا کہ 20 سے 25 دن آٹھ سے نو گھنٹے اگر بھوکہ رہا جائے تو جسم تمام زہریلے خلیوں کو کھا جائے گااور اس سے کینسر نہیں ہوگا۔ اس سے یہ بات عیاں ہے کہ جس چیز کو ڈھونڈنے میں انسان کو کئی سال لگ گئے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی اس عمل کو ہمارے دین میں شامل کردیا۔

روزے کے چند فوائد کا تذکرہ نیچے بیان کیا گیا ہے۔

روزے کے دوران ہمارے جسم میں کیا ہوتا ہے؟:-

روزے کے دوران جب ہمارے جسم سے توانائی ختم ہونے لگتی ہے۔ تب ہمارے جسم میں ایک عمل شروع ہوتاہے۔ اس عمل میں جگر اور پٹھوں میں جمع شدہ گلوکوز خون میں شامل ہوجاتا ہے۔جس سے ہمارے جسم کو کچھ وقت کیلئے مزید توانائی مل جاتی ہے۔پھر جسم مزیدتوانائی حاصل کرنے کیلئے غیرضروری پٹھوں کے ریشوں کو جلانا شروع کر دیتا ہے۔جس سے غیر ضروری چربی پگھل جاتی ہے اور کولیسٹرول لیول بھی کم ہوجاتا ہے۔

میٹابولیزم کی سرگرمی:-

میٹابولیزم ایک ایسا عمل ہے جس کے دوران قدرتی طور پر جسم سے فالتو کیلوریز خارج ہوتی ہیں ۔میٹابولیزم میں اضافے کی وجہ سے وزن آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔یہ کمی 1 سے 2 پاؤنڈفی ہفتہ کے حساب سے ہوسکتی ہے ۔اگر آپ کے جسم میں میٹابولیزم کی مقدار میں اضافہ ہوتاہے تو آپ کے جسم کو زیادہ مقدار میں پروٹین کی بھی ضرورت ہو گی۔میٹابولیزم کا بڑھنا وزن میں مستقل کمی کا باعث بنتاہے۔

کینسر کا علاج اور اس کی روک تھام:-

روزہ کینسر کی روک تھام اور اس کے علاج کیلئے بہت فائدہ مند ہے۔ایک مطالعہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک خاص عرصہ تک روزانہ روزہ رکھنا کینسر کو بڑھنے سے روکنے میں کیمیوتھراپی کی نسبت زیادہ موثرہے۔ روزہ رکھنے سے کینسر کی گروتھ میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ روزہ ٹیومر کے قیام کو روکنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

روزے کا جوانی برقرار رکھنے میں اہم کردار:-

ہم میں سے بہت سے لوگوں کو یہی لگتا ہے کہ روزہ رکھنے سے ہمارا جسم کمزور ہوجاتا ہےیہ بات درست نہیں ہےبلکہ روزہ رکھنےسےانسان جوان رہتا ہے۔روزے کے دوران انسانی جسم میں موجود ہارمونز حرکت میں آجاتے ہیں جو کہ بڑھاپے کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔روزے رکھنے سے انسانی جلد مضبوط ہوتی ہے اور اس میں جھریاں بھی کم ہوجاتی ہیں۔انسانی جلد اور ناخنوں پر بھی روزے کے مثبت اثرات ہوتے ہیں۔سر کے بال مضبوط ہوتے ہیں۔روزے کے دوران جسم میں ایسے ہارمونز بنتے ہیں۔جو بالوں کی مضبوطی اور ناخنوں کی چمک میں اضافہ کرتے ہیں۔

مضبوط قوت ارادی:-

طاقت ور بننے کیلئے سب سے پہلے خود سے لڑنا پڑتاہے۔ اپنےنفس سے لڑائی جیتنی پڑتی ہےاور یہ کامیابی کیلئے بہت ضروری ہے۔ روزہ اس میں ہماری مدد کرتا ہے اوریہی وجہ ہے کہ روزہ رکھنے سے قوت اور برداشت میں کافی زیادہ اضافہ ہو تا ہے۔روزہ انسان میں بردباری، نظم و ضبط اور صبر پیداکرتا ہے۔جس سے ہماری جسمانی،سماجی،نفسیاتی اورتعلیمی قابلیت میں یقینی طور پر اضافہ ہوتا ہے۔

سائنسی تحقیقات کے مطابق مضبوط قوت اور ارادہ ہماری کامیابی اور خوشیوں کیلئے بہت اہم ہے۔یہ ہمارے رویے میں نہ صرف خاطر خواں بہتری لاتا ہے بلکہ ہم میں انسانی ہمدردی کا جذبہ بھی پیدا کر تی ہے۔

"ماہرِنفسیات ناتھن ڈی وال کی رپورٹ کے مطابق:اجنبی لوگوں کی مدد کرنا،بھوکے بچوں کو کھانا کھلانا اور بے گھر افراد کی مالی امداد جیسے اقدامات کرنے سے انسانوں میں احساسِ ذمہ داری، اندرونی سکون اور فیصلہ کرنے کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔"

احتیاطی تدابیر :-

روزے میں ہمیں ان باتوں کاخاص خیال رکھنا چاہیے۔

  1. صبح سحری کے وقت دہی کا استعمال کریں۔دہی کھانے سے کم بھوک لگتی ہے۔
  2. سموسے،پکوڑے اور مصنوعی مشروبات جیسی مضر صحت اشیاء کا استعمال نہ کریں۔
  3. روزوں میں اپنی پانی کی ضروریات کا خاص خیال رکھیں۔زیادہ پانی پینے سے جلد تروتازہ رہتی ہے۔صبح سحری کے وقت اور شام کو افطاری کے بعد اعتدال کے ساتھ خوب پانی پیئے۔
  4. ماہِ رمضان میں زیادہ سے زیادہ سبزیوں کا استعمال کرناچاہیے۔
  5. روزہ رکھنے کی وجہ سے ہمیں بہت زیادہ بھوک لگتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں ہے کہ آپ سحری یا افطاری میں بہت زیادہ کھانا کھائیں۔بلکہ آپ کو توازن میں ہی کھانا چاہیے۔
  6. کھانا کھانے کے فوراً بعد مت سوئیں بلکہ تھوڑا چہل قدمی کریں تاکہ کھانا ہضم ہو جائے۔