Should We Celebrate Valentine's Day ویلنٹائن ڈے منایا جائے یا نہیں؟

Should We Celebrate Valentine's Day Picture

ویلنٹائن ڈے پوری دنیا میں 14 فروری کو محبت کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ محبت کے دعوے دار اس دن پھول، چاکلیٹ اور دوسرے تحائف کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں اور ناجانے کون کون سی روایات محبت کے اس عالمی دن سے جڑ چکی ہیں۔

اس دن کے حوالے سے مختلف روایات رومن تہذیب سے جڑی ہیں۔ تیسری صدی میں یہ تہوار روحانی محبت کے اظہار کیلئے مخصوص تھا اور اسی طرح بہت سی بے بنیاد کہانیاں اس دن سے منسوب ہیں۔ آج سے کئی سال پہلے مسلم ممالک تو دور خود عیسائی بھی اس تہوار سے ناواقف تھے مگر آج مغرب کی اس سازش نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

بد قسمتی سے مغرب کی طرف سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی یہ چال کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ مسلمان بھی لاعلمی میں اس چنگل میں پھنستے جارہے ہیں۔ اس دن / اس تہوار نے پورے اسلامی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کیسے ہلا کر رکھ دیا ہے اس بات کا اندازہ آپ کو اگلی چند سطور پڑھ کر ہوجائے گا۔

14 فروری کو پاکستان میں بہت سی خرافات اور بد اخلاقی سرگرمیاں جنم لیتی ہیں۔ ناجائز طریقے سے اظہار محبت کا اس دن خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ ہماری نوجوان نسل جوکہ ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں بڑی بے باکی سے اس دن کو پر جوش طریقے سے مناتے اور تمام حدوں کو پامال کرتے نظر آتے ہیں ۔۔۔اور باعث فکر ہے کہ اس دن کو منانے والے خود بھی اس بات کا فیصلہ نہیں کر پائے ہیں کہ اس دن کے منانے کی آخر وجہ کیا ہے۔ (ویلنٹائن ڈے کیوں منایا جاتا ہے، حقیقت جانئے۔) اور اگر پھر بھی اُن کہانیوں کو بنیاد بنایا جائے تو اس کے باوجود کیا ایک عقل مند اور باشعور انسان کبھی اس دن کو منانے کے بارے میں سوچ سکتاہے؟ کیا کوئی باعزت شخص یہ چاہے گا کہ راہ چلتا انسان اس کی بیٹی کو پھول یا تحفہ دے کر اپنی محبت کا اظہار کرے۔ اور کیا ہمار ا اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ نامحرم لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے ساتھ ناجائز تعلقات کو فروغ دیں ۔

ایک حدیث میں حضورصلی علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا ہے:

"کسی آدمی کے سر میں لوہے کی کیل ٹھونک دی جائے یہ اس کیلئے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ ایسی عورت کو چھوئے جو اس کیلئے حلال نہیں "سلسلہ احادیث صحیحہ۔:1657

ان سب باتوں کے باوجود ناجانے کیوں ہم یہ بات بھول چکے ہیں کہ تہوار اور میلے ہر قوم کی اپنی مذہبی اور ثقافتی اقدار و نظریات کے ترجمان ہو تے ہیں اور چونکہ اسلام ایک الگ الہامی دین ہے اس لئے اس کی اپنی روایات اور اقدار ہیں جن کی نمائندگی خود حضرت محمد صلی اللہ علیہ السلام نے کی تھی۔ آخری پیغمبر کی جانب سے دو تہوار مقرر کیے گئے ، اور نہ صرف مقرر کیے گئے ہیں بلکہ خوشی، تفریح، جذبات کا اظہار سب عملی طورپر بیان کر دیا گیا ہے۔

لہذا اب کسی نئے غیر مسلموں کے تہوار کو اسلام میں داخل کر لینا از خود کو ئی تہوار مقرر کر لینا، دین میں اضافہ کرنے کے مترادف ہے۔ اور ان کو منانا غیر مسلم اقوام سے مشابہت اختیار کرنا ہے خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو۔جس کی وعید خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان فرمائی:

جس نے کسی (غیر ) قوم کی مشابہت کی وہ انہی میں سے ہے۔ ابو داؤد:4031

دین اسلام ہمیں ایثار، امن، محبت اور اخلاص کا درس دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اخلاقی قواعد و ضوابط بھی وضع کردیے ہیں جن کی حدود میں رہتے ہوئے زندگی کو بسر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اور دشمنان اسلام اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ مسلمانوں کو اگرہرانا ہے تو ان کو قرآن اور سنت سے دوری کی بنا پر ہی شکست دی جا سکتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ روایتی اندازِ جنگ سے یعنی اسلحہ وغیرہ سے مسلم ممالک کی اینٹ سے اینٹ تو بجا سکتے ہیں لیکن امتِ مسلہ کو منتشر نہیں کر سکتے ہیں۔ لہذا یہی ایک طریقہ کار ہے جس کا استعمال کر کے غیر مسلم اقوام ہماری بنیادوں کو ہلا کر ہمیں مات دے سکتی ہیں۔

ذرا سوچئے: اب آپ کو خود اس بات کا فیصلہ کرنا ہو گا کہ ویلنٹائن ڈے کو منانا چاہیے یا نہیں ۔۔۔!!!