Kamyabi Ke Usool in Urdu زندگی میں کامیابی کے اصول

Development Principles

روحانی ترقی:-

زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں کامیابی کے لئے سب سے پہلے روحانی ترقی حاصل کرنا ضروری ہے۔روحانی ترقی کا مقصد اللہ تعالیٰ کے آگے سجدہ ریزی ہے۔رب کریم کے احکامات پر عمل کرکے اس بابرکت ذات کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔دنیا کے تمام وہ لوگ جو اپنے اپنے مذہب کے بتائے ہوئے اصولوں پرعمل کرتے ہیں ہمیشہ خوش رہتے ہیں۔ان کے دلوں کو سکون میسر ہوتا ہے۔صحت کے معاملے میں ہمیشہ تندرست رہتے ہیں۔دنیاوی پریشانیوں اور مالی مشکلات سے آزاد رہتے ہیں۔انہیں آخرت کی فکر ہوتی ہے۔وہ دنیا کو ایک کھیل تماشا سمجھتے ہیں۔سادگی سے زندگی گزارتے ہیں ناجائز ذرائع آمدن کے قریب نہیں جاتے۔

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔اس میں دین اور دنیا دونوں کو رکھنے کا حکم ہے۔دنیا کی مصیبتوں اور مالی مشکلات سے چھٹکارا اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے کہ اگر ہم بطور مسلمان اپنے فرائض اورذمے داریاں اسلام کی روشنی میں ادا کریں۔عبادت انسان کو ذہین بناتی ہے اسے شعور کی دولت سے مالا مال کرتی ہے۔خداتعالیٰ سے لگن اسے اطمینان قلب نصیب کرتی ہے۔عبادت ہر فرد کو دوسروں سے منفرد رکھتی ہے۔خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو لوگ میری عبادت کریں گے'ہم ان کو دوسروں سے ممتاز بنادیں گے۔یہ عزت اورمرتبہ نہ تو دولت سے حاصل ہوسکتا ہے نہ ہی کسی دوسرے غیرشرعی طریقہ سے مل سکتاہے۔دنیاوی کاموں میں ترقی حاصل کرنے کے لئے عبادت کا شامل ہونابہت ضروری ہے۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی سے ہی معاشرے میں ترقی ہوتی ہے۔یہ روحانی ترقی کے بغیرممکن نہیں۔

مادی ترقی:-

موجودہ دور میں مالی وسائل بڑھانامادی ترقی کہلاتا ہے۔کچھ لوگوں میں خاندانی دولت اور جائیداد کے سہارے ترقی کرتے ہیں۔انہیں اپنی تعلیم حاصل کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔وہ موافقِ حالات میں اپنی زندگی بڑے آرام سے گزارتے ہیں۔لاہور کے ایک بڑے جاگیردار گھرانے کا ایک تعلیم یافتہ آدمی جب مجلس قانون سازاسمبلی کا ممبربنا تواس نے پنجاب اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں کچھ یوں کہا''میری بڑی بڑی جاگیریں اور زمینداریاں میرے بڑوں کی غداری کا انعام ہیں۔اس میں میری خوبی نہیں ہے۔میری ذات ان عنایات سے پاک ہے۔''تاریخ ان لوگوں کا ذکر بھی کرتی ہے جو بڑے کٹھن حالات میں بھی محِب وطن رہے'محنت ومشقت سے تعلیم حاصل کی اورآسمانِ علم پر آفتاب بن کر چمکے اور دنیا میں اپنے نقوش چھوڑ گئے۔

زندگی میں کامیابی کے لئے دو صلاحیتوں کا ہونا بہت ضروری ہے۔ایک کردار کی مضبوطی اور دوسری خوداعتمادی۔فردواحدامیرکتنا بھی ہواگر کردار درست نہیں تو اسے کسی مرحلے پر کامیابی نصیب نہیں ہوگی'اس طرح دوسرافردخواہ کتناہی محنتی کیوں نہ ہواگر کریکٹر صحیح نہیں تو وہ بھی ہر معاملے میں ناکام رہے گا۔وہ دوسروں کو دھوکے ضرور دے گامگر آخرکارعزت گنوابیٹھے گا۔اس پر کوئی اعتماد بھی نہیں کرے گا۔دوسری صلاحیت خود اعتمادی کی ہے جو کامیابی کا پہلا راز ہے۔اپنی کابلیت اور ذرائع کے مطابق مستقبل سنوارنا چاہیے۔کاروبار میں وافر سرمایہ کی ضرورت ہے۔اگر کاروبار کیلئے سرمایہ مطلوبہ مقدار تک بھی نہیں ہے تو کاروبار شروع نہیں کرنا چاہیے۔ابتداء کرنے کے بعد سرمایہ نہ ہونے سے ذاتی اثاثہ بھی ختم ہو جاتاہے۔

جس کام کرنے میں فردِواحد خوشی محسوس کرے وہی کام کرے۔اگر سول سروس،میڈیکل اور انجینئرنگ کے لئے آپ میں ذہنی صلاحیتیں اور ااخراجات کیلئے سرمایہ موجود ہے یا ان کے اخراجات کیلئے معقول ذریعہ ہو توان شعبوں میں قدم رکھیں ورنہ ناکام ہو جائیں گے۔کسی امتحان میں ناکامی کو ہم بدقسمتی قرار دیتے ہیںیہ دوبارہ کوشش نہ کرنے کی وجہ ہوتی ہے۔ایک بار ناکامی سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔دوسری بار،تیسری بارغرض جب تک کامیابی نہ ہو کوشش جاری رکھیں۔سکاٹ لینڈ کے بادشاہ روبرٹ بروس ساتویں بارجنگ لڑ کے کامیاب ہوا تھا۔کسی مقصد کے حصول کیلئے قومیں صدیوں تک اپنا مشن جاری رکھتی ہیں۔

جمال عبدالناصر فوج میں کمیشن حاصل کرنے کے لئے دوبار ناکام ہوئے تھے۔ تیسری بارکامیاب ہوئے جو بعد میں مصر کے بااثر نامور صدر بنے اور مصر کی سرزمین سے بادشاہت ختم کردی۔انسان اپنی قسمت خود بناتاہے اس کی محنت کا ثمر خدا تعالیٰ عنایت کرتا ہے۔مگر محنت کرنا لازمی شرط ہے اور مقصد کا ہونا ضروری ہے۔بغیر مقصد کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔مقصد حاصل کرنے کی جدوجہد میں چند لوگ کامیاب ہوجاتے ہیں کچھ اپنی کی ہوئی محنت سے فائدہ اٹھاتے ہیں'کچھ مقصد حاصل کرنے کیلئے اپنی زندگی کی تمام توانائیاں قربان کر دیتے ہیں مگر ناکام رہتے ہیں۔سمندر سے موتی نکالنے کیلئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ہماری ہمتوں اور مضبوطی سے ہی ہمیں کامیابی کی ضمانت ملتی ہے۔مسلسل جدوجہدایک دن ضرور رنگ لاتی ہے۔

سیاسی ترقی:-

کچھ لوگ شہرت کی خاطر سماج کیلئے بہت اچھے کام کرتے ہیں۔سیاسی 'مذہبی اورسماجی لیڈر بن کر لوگوں کی فلاح وبہبود کرتے ہیں۔اپنے مشن کی کامیابی کیلئے دشوارگزار مراحل سے بھی گزرتے ہیں اور جیلوں کی صعوبتیں بھی برداشت کرتے ہیں۔پاکستان میں بڑی چھوٹی سیاسی پارٹیوں کی کل تعداد الیکشن کمیشن کے مطابق 78 ہے۔ایک ملک میں سیاسی پارٹیوں کی اتنی تعداددنیا کے چند ملکوں میں شاید ہو۔آنے والے وقت میں صرف تعلیم یافتہ سیاسی لوگ ہی کامیاب ہوں گے جو پہلے اپنی پارٹیوں میں کارکنوں کو سیاسی تربیت دیں گے اور ویلفیئر ٹرسٹ کے نظریہ کو فروغ دیں گے ۔وہ پیشہ ور سیاستدانوں کے آلہ کار نہیں بنیں گے۔