Dua for Istikhara استخارہ کی دعا اور شرعی طریقہ

استخارہ کی دُعا

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِي

ترجمہ:

اے اللہ !بے شک میں تجھ سے تیرے علم کے ساتھ بھلائی طلب کرتا ہوں اور تجھ سے تیرے فضل عظیم کا سوال کرنا ہوں کیوں کہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا تو جنتا ہے اور میں نہیں جانتا اور توغیوں کو خوب جانتا ہے ۔اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ بے شک یہ کام اس کام کا نام لے میرے لیے میرے دین میرے معاش اور میرے انجا م کار کے لحاظ سے بہتر ہے تو اس کا میرے حق میں فیصلہ کردے اور اسے میرے لیے آسان کر دے اور پھر میرے لیے اس میں برکت ڈال دے اور اگر تو جانتا ہے کہ بے شک یہ کام اس کام کانام لے میرے لیے میرے دین میرے معاش اور میرے انجام کار کے لحاظ سے برا ہے تو اسے مجھ سے دور کر دے اور مجھے اس سے دور کر دے اور میرے لیے بھلائی کا فیصلہ کردے جہاں بھی وہ ہو، پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔

استخارہ کرنے کا طریقہ

جب کوئی کام کرنے کا ارادہ کرے تو اللہ تعالیٰ سے صلاح لے لے اس صلاح لینے کو استخارہ کہتے ہیں ۔ حدیث میں اسکی بہت ترغیب آئی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے صلاح نہ لینا اور استخارہ نہ کرنا بدبختی اورکم نصیبی کی بات ہے کہیں منگنی کرے بیاہ کرے یا سفر کرے یا کوئی کام کرے تو بے استخارہ نہ کر ے تو اِنْ شَا ءَ اللہ کبھی اپنے کیے پر پریشان نہ ہو گا۔ استخارہ کی نماز کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے دو رکعت نماز نفل پڑھے اس کے بعد خوب دل لگا کر مذکورہ ذیل دُعا پڑھے : اَللّٰھُمَّ اِنِیْٓ ۔ مستحب یہ ہے کہ اس دُعا کے اول وآخر درود شریف پڑھے اور جب ھٰذَاالْاَمْرَ پر پہنچے جس لفظ پر لکیر بنی ہے تو اُس کے پڑھتے وقت اسی کام کا دھیان خیال کرے جس کیلئے استخارہ کرنا چاہتے ہیں اُس کے بعد پاک وصاف بچھونے پر قبلہ کی طرف منہ کر کے با وضو سو جائے ۔ جب سو کر اٹھے اُس وقت جو بات دل میں مضبوطی سے آئے وہی بہتر ہے اُسی کو کرنا چاہیے۔